The people will not tolerate the unavailability of water and electricity for long, the only way to get rid of the electricity and water mafia is the people’s struggle (Shehri Awami Mahaz protest).

Press release 20th July, Khi. A protest against the non-supply of water and electricity was held at Indus (Singer) Chowrangi, Korangi Industrial Area on the appeal of Shahri Awami Mahaz . The demonstration was led by Zehra Akbar and Rehmat Ali and attended by a large number of people from labor settlements and other localities.  Protesters held banners and placards against power outages and water theft. And they were chanting slogans against the electric and water mafia.

Addressing the protesters, Rehmat Ali, leader of Shahri Awami Mahaz, said the city’s first major problem at the moment was drinking water.  Factories in the industrial area of ​​Korangi have taken hundreds of illegal connections to the water lines laid for the residents of Karachi’s suburbs, especially Sharafi Goth, which is severely affecting the water supply to these residential areas.

While the elected representatives of the city did not solve this basic water problem for their own benefit for long. Their attitude towards the people was very humiliating while the factory owners also threaten in case of a complaint or protest against the theft of water.

Comrade Gul Rehman, Chairperson Workers Rights Movement said that another major problem of these areas was unannounced load shedding of electricity. Workers in these areas didn’t have electricity for 10 to 12 hours due to which people were suffering from mental anguish and have lost their jobs.

Zehra Akbar Khan, general secretary of the Home-Based Women Workers Federation and leader of the Mahaz, said that under a well-thought-out plan, the working-class settlements were being deprived of electricity and water. K Electric has failed to deliver on its promise to supply electricity to the residents of the country’s largest industrial city, despite receiving state subsidies of Rs 600 billion since it privatization in 2005 and profits of Rs 17 billion annually.  This proves that the process of privatization of public institutions was a complete failure and harmful to the well-being of the citizens.

Shabbir Khaskheli, leader of Chashma Goth Welfare Society, said that water lines in Chashma Goth and other areas have been laid but water is not flowing mainly due to illegal connections to the main water line.

He added that there were hundreds of buffalo herds near the main water line which had hundreds of illegal connections that prevent water from reaching residential areas. The people of the area are thirsty for a drop of water. The residents of the area were mostly poor laborers. Due to poverty they couldn’t buy water so the women and children of these areas were forced to ask for water from water tankers passing through the area.

He lamented that the rainy nallahs of the area had not been repaired for many years due to which all the rainwater from the nearby hilly area enters the streets and houses of the people of Chashma Goth which played havoc with their lives.

Abdul Basit Jagrani, General Secretary, Textile Garment, General Workers Union, said that despite severe load shedding, complaints of over-billing were common.  At a time when unemployment was at an alarming stage, the rise in electricity prices speaks volumes about the indifference of the ruling thighs. Lack of timely supply of electricity and water had made the lives of the workers miserable. The constant crisis of water and electricity had left the citizens suffering from mental and physical ailments.

Protesters demanded that the privatization of K-Electric is canceled, that its administration be placed under the democratic control of the citizens, that power outages be stopped immediately, that over-billing be stopped, and that the extra money should be returned, fair distribution of water should be ensured, industrial establishments involved in water theft should be punished according to law and all illegal water connections should be removed, all hydrants should be shut down and tanker mafia should be punished.

The next protest demo of Shehri Awami Mahaz will be held on Tuesday, July 21 at 4.30 pm at Sher Shah Chowk, SITE, West Karachi

Among those who addressed the protest were  Himmat Phulpoto of Sindh Sajag Mazdoor Federation, Columnist Aslam Khokhar, Qazi Khizar, human right activist, Abdul Basit of Textile General Workers Union, Abdul Rahman worker leader from Sharifi Goth, Shabbir political activist and Akber from Malir Stars.

عوام پانی اور بجلی کی عدم دستیابی زیادہ دیر برداشت نہیں کرے گی، بجلی اور پانی مافیا سے نجات کا واحد راستہ عوامی جدوجہد ہی ہے( شہری عوامی محاذ کا اھتجاجی مظاہرہ)

شہری عوامی اتحاد کی اپیل پر پانی اور بجلی کی عدم فراہمی کے خلاف ایک احتجاجی مظاہرہ انڈس( سنگر ) چورنگی، کورنگی انڈسٹریل ایریا پر کیا گیا. مظاہرہ کی قیادت زہرا اکبر اور رحمت علی کر رہے تھے. مظاہرہ میں مزدوروں بستیوں اور دیگر علاقوں کے افراد نے کثیر تعداد نے شرکت کی. مظاہرین نے بجلی کی لوڈشیڈنگ اور پانی کی چوری کے خلاف بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے. اور وہ کے الیکٹرک اور پانی مافیا کے خلاف نعرے لگا رہے تھے.

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے شہری عوامی محاذ کے رہنما رحمت علی نے کہا کہ اس وقت شہر کا پہلا بنیادی مسلئہ پینے کے پانی کا ہے. کراچی کی مضافاتی بستیاں خصوصاً شرافی گوٹھ کے رہائشیوں کے لیے بچھائی گئی پانی کی لائین سے کورنگی کے صنعتی علاقے کی فیکٹریوں نے سینکڑوں ناجائز کنکشن لے رکھے ہیں جس کی وجہ سے ان رہائشی علاقوں کو پانی کی سپلائی بُری طرح متاثر ہورہی ہے. جب کہ شہر کے منتخب نمائندے پانی کے اس بنیادی مسلئہ کو اپنے ذاتی مفاد کی خاطر حل نہیں کرواتے. ان کا رویہ لوگوں کے ساتھ انتہائی ذلت آمیز ہے جب کہ شکایت یا احتجاج کی صورت میں فیکٹری مالکان بھی دھمکیاں دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا ان علاقے کا دوسرا گھمبیر مسئلہ بجلی کی غیر علانیہ لورڈ شیڈنگ کا ہے، محنت کشوں کے ان علاقوں میں دس سے 12 گھنٹے بجلی نہیں ہوتی جس کی وجہ سے لوگ ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور روزگار پر جانے سے محروم ہوگیے ہیں.

زہرا اکبر خان، جنرل سیکرٹری ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن اور رہنما شہری عوامی اتحاد نے کہا کہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت محنت کش بستیوں کو بجلی اور پانی سے محروم رکھا جارہا ہے. کے الیکٹرک چھ سو ارب کی ریاستی سبسیڈی لینے اور سالانہ سترہ ارب منافع کمانے کے باوجود ملک کے سب سے بڑے صنعتی شہر کے باسیوں کو بجلی کی فراہمی کا وعدہ پورا کرنے میں ناکام رہا ہے. یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اداروں کی نج کاری کا عمل مکمل طور پر ناکام نسخہ ہے.

چشمہ گوٹھ ویلفیئر سوسائٹی کے رہنما شبیر خاصخیلی نے کہا کہ چشمہ گوٹھ اور دیگر علاقوں میں پانی کی لائینز تو بچھی ہوئی ہیں لیکن پانی نہیں آتا جس کی بنیادی وجہ پانی کی مرکزی لائین سے لئے جانے والے غیر قانونی کنکشن ہیں. انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی مرکزی لائین کے قریب سینکڑوں بھینسوں کے باڑے ہیں جنہوں نے سینکڑوں ناجائز کنکشن لگا رکھے ہیں جس کی وجہ سے رہائشی علاقوں تک پانی نہیں پہنچ پاتا۔ علاقے کے لوگ پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں، علاقے کے رہائشی زیادہ تر غریب مزدور ہیں غربت کے باعث وہ پانی خرید نہیں پاتے لہذا ان علاقوں کی عورتیں اور بچے علاقے سے گزرتے واٹر ٹینکرز سے پانی مانگنے پر مجبور ہیں.

انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ علاقے کے برساتی نالے کی مرمت کئی سالوں سے نہیں ہوئی جس کی وجہ سے قریب کے پہاڑی علاقے کا سارا برساتی پانی چشمہ گوٹھ کی گلیوں محلوں اور لوگوں کے گھروں میں داخل ہو جاتا ہے جس سے علاقے مکین بہت پریشان ہیں.

عبدالباسط جاگرانی، جنرل سیکرٹری ٹیکسٹائل گارمنٹ جنرل ورکرز یونین نے کہا کہ بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کے باوجود اوور بلنگ کی شکایت عام ہے. ایسے وقت میں جب بر روزگاری عام ہے بجلی کی قیمتوں میں اضافہ حکم رانوں کی بے حسی کا منہ بولتا ثبوت ہے. بجلی اور پانی کی بروقت فراہمی نہ ہونے کی وجہ سے محنت کشوں کی زندگی اجیرن ہوگئی ہے. پانی اور بجلی کے مسلسل بحران نے شہریوں کا ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں مبتلا کر دیا ہے.

احتجاجی مظاہرے کے شرکاء نے مطالبہ کیا کہ” کے الیکٹرک” کی نج کاری منسوخ کی جاۂے، اس کا انتظامی امور شہریوں کے جمہوری  کنٹرول میں دیا جائے، بجلی کی لوڈ شیڈنگ فی الفور ختم کی جائے، اوور بلنگ کا سلسلہ بند کیا جائے اور لی گئی اضافی رقم واپس کی جائے، پانی کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، پانی کی چوری میں ملوث صنعتی اداروں کو قانون کے مطابق سزا دی جائے اور تمام غیر قانونی پانی کنکشن ختم کیے جائیں، تمام ہائیڈرنٹس بند کیے جائیں اور ٹینکر مافیا کے ظلم سے شہریوں کو نجات دلائی جائیں.

شہری عوامی محاذ کا اگلا مظاہرہ منگل، اکیس جولائی شیرشاہ چوک، سائیت ایریا پر کیا جائے گا.

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرنے والوں میں ورکرز رائٹس موومنٹ کے کامریڈ گل رحمان، ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیزریشن کی ذرا خان، سندھ سجاگ مزدور فیڈریشن کے ھمت پھلپوٹو، انجمن فلاح و بہبود کے رحمت، ٹیکسٹائل خنرل ورکرز یونین کے عبد الباسط، کا لم نگار اسلم کھوگھر، سیاسی کارکن شبیر خاصخیلی ، شرافی گوٹھ کے رہنما عبد الرحمان، نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے قاضی خضر اور ملیر اسٹارز سے اکبر شامل تھے ۔

Follow by Email